جنرل ضیاء الحق شہید کا وہ خفیہ مشن جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا
میں نے جنرل ضیاء الحق پر ویڈیو بنانے ہے انہوں نے 1984 تک پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا تھا اس پر مجھے 200 الفاظ کی سٹوری بنا کے دے دلچسپ سی
جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کی یہ کہانی کسی سنسنی خیز جاسوسی فلم سے کم نہیں۔ 1970ء کی دہائی کی بات ہے جب پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو پروان چڑھا رہا تھا اور عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل، اسے کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتے تھے۔ لیکن جنرل ضیاء نے انتہائی دانشمندی اور خاموش حکمتِ عملی سے اس مشن کو آگے بڑھایا۔
انہوں نے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ’سائیکولوجیکل وارفیئر‘ کا سہارا لیا۔ ایک طرف وہ عالمی برادری کو یہ باور کراتے رہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، اور دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کو مکمل ہائی الرٹ اور خفیہ تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے ’سائلنٹ ڈٹرنس‘ یعنی خاموش دفاع کا اصول اپنایا۔
کہا جاتا ہے کہ 1984ء تک پاکستان نے وہ تمام ٹیکنالوجی اور صلاحیت حاصل کر لی تھی جس سے ایٹم بم تیار کیا جا سکے۔ یعنی پاکستان بظاہر ایک غیر ایٹمی ملک تھا، مگر اندرونی طور پر وہ ایٹمی صلاحیت کا مالک بن چکا تھا۔
جنرل ضیاء الحق کی اس ’کولڈ ٹیسٹ‘ اور خفیہ سفارت کاری کی بدولت پاکستان نے بغیر کسی عالمی پابندی کا شکار ہوئے خاموشی سے خود کو ایک ایٹمی طاقت بنا لیا، جس نے خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔