بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
محترم صدرِ محفل، قابلِ احترام اساتذہ کرام، اور میرے وہ ساتھیو جن کی یادداشت بھی امتحان کے دن انہیں دھوکا دے جاتی ہے۔۔۔ السلام علیکم!
آج میری تقریر کا موضوع ہے: ’’میری یادداشت کو ضروری باتیں ہی کیوں بھول جاتی ہیں؟‘‘
جنابِ صدر! میری یادداشت کا نظام بڑا نرالا ہے۔ ضروری باتیں یاد رکھنے کے لیے اسے دس مرتبہ کہنا پڑتا ہے، لیکن دو سال پہلے کی کوئی شرمندگی یاد دلانی ہو تو یہ بغیر اجازت کے بھی پوری فلم چلا دیتی ہے!
امی کہتی ہیں: ’’بیٹا! کمرے سے پانی کی بوتل لے آنا!‘‘
میں کمرے میں جاتی ہوں، وہاں پہنچ کر سوچتی ہوں: ’’میں آئی کس لیے تھی؟‘‘ پھر واپس آتی ہوں، امی کو دیکھتی ہوں، اور کہتی ہوں: ’’امی! میں آپ سے کچھ پوچھنے آئی تھی۔۔۔ لیکن کیا؟‘‘
امی کا چہرہ دیکھ کر لگتا ہے کہ اب پانی کی بوتل نہیں، میرا دماغ ہی فریج میں رکھنا پڑے گا!
اور جنابِ صدر! امتحان کے دن تو میری یادداشت کا الگ ہی ڈراما ہوتا ہے۔
گھر میں کتاب پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ میں علم کا سمندر ہوں۔ ہر سوال کا جواب معلوم ہے!
لیکن جیسے ہی پرچہ سامنے آتا ہے، دماغ کہتا ہے: ’’بہن، آپ نے مجھے پہلے کبھی یہ سب بتایا ہی نہیں!‘‘
میں سوال کو دیکھتی ہوں، سوال مجھے دیکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان خاموشی ہوتی ہے۔۔۔ ایسی خاموشی کہ اگر مچھر بھی گزرے تو اس کی آواز سنائی دے!
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ میری یادداشت ہر چیز نہیں بھولتی!
مجھے پانچویں جماعت کا وہ اسکول ٹرپ آج بھی یاد ہے، جب ہم سب ایک وین میں مینارِ پاکستان جا رہے تھے۔
شروع میں سب ایسے بیٹھے تھے جیسے کسی شاہی تقریب میں شرکت کرنے جا رہے ہوں۔ لیکن پھر ایک لڑکے نے بوتل پھینکی، جو میری دوست کے سر پر جا لگی!
دوست نے بھی سوچا کہ ’’یہ تو ذاتی معاملہ بن گیا ہے!‘‘
اس نے بوتل واپس پھینکی، پھر تکیے نکلے، اور دیکھتے ہی دیکھتے وین میں تکیوں کی جنگ شروع ہوگئی!
ہم مینارِ پاکستان دیکھنے جا رہے تھے، لیکن وین میں تو الگ ہی WWE کا فائنل چل رہا تھا!
پھر وین نے موڑ کاٹا، اور ایک لڑکا لڑکھڑا کر ایک لڑکی پر جا گرا!
جنابِ صدر! اس وقت ہماری وین میں اتنا ڈراما ہو رہا تھا کہ اگر کسی نے کیمرہ آن کر دیا ہوتا تو آج ہم ٹرپ کی تصویریں نہیں، Netflix کی سیریز دیکھ رہے ہوتے!
اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب مجھے آج بھی یاد ہے!
لیکن کل کی پڑھائی پوچھ لیں تو دماغ کہتا ہے: ’’یہ معلومات اس وقت دستیاب نہیں۔ براہِ کرم بعد میں کوشش کریں!‘‘
میری یادداشت بھی بڑی وفادار ہے۔۔۔ بس پڑھائی کے معاملے میں میرا ساتھ چھوڑ دیتی ہے!
بہرحال، دوستو! ہمیں ضروری باتیں یاد رکھنے کے لیے توجہ دینی چاہیے، انہیں دہرانا چاہیے اور اہم نکات لکھ لینے چاہییں۔
کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں بھول جانا معمول کی بات ہے، لیکن ہر امتحان میں اپنا دماغ Airplane Mode پر ڈال دینا کوئی اچھی حکمتِ عملی نہیں!
آخر میں بس اتنا عرض کروں گی:
میری یادداشت کا بھی عجیب حساب ہے،
شرارتیں پوری یاد، پڑھائی کا صفایا جناب ہے!
بہت شکریہ! والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!Writer has not written anything about themselves.